شادی کے بعد رشتے کیسے نبھائیں؟
آج کل خبروں اور سوشل میڈیا پر خلع اور طلاق کے کیسز میں تشویشناک اضافے کا تذکرہ زبانِ زدِ عام ہے۔ ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ خاندانی نظام میں دراڑیں اور عدالتوں میں بڑھتے ہوئے مقدمات یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہمارے خاندانی نظام کا توازن کہاں بگڑ رہا ہے؟
جب ہم نکاح کنیکٹ (Nikah Connect) کے پلیٹ فارم پر موجود بے شمار لوگوں کے ڈیٹا اور روزمرہ کے مشاہدات کا جائزہ لیتے ہیں، تو کچھ انتہائی اہم حقائق سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم نے اپنے پلیٹ فارم پر جو ایک مخصوص *پروفیشنل لوگوں کا واٹس ایپ گروپ* بنایا ہے، اس میں تقریباً 65 سے 70 فیصد پروفائلز اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل خواتین کی ہیں، جبکہ مردوں کی شرح 30 سے 35 فیصد کے قریب ہے۔
یہ اعداد و شمار اس خوش آئند حقیقت کی علامت ہیں کہ ہماری بچیاں تعلیم، شعور، پروفیشنلزم اور زندگی کے ہر میدان میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور خود کو بہتر سے بہترین بنا رہی ہیں۔ لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے نوجوان لڑکوں پر ملک کے موجودہ معاشی حالات، روزگار کی دوڑ اور پورے خاندان کی کفالت کا ایک بہت بڑا دباؤ ہے۔ اس مسلسل معاشی جنگ اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے، اکثر نوجوان اپنی صحت، ظاہری شخصیت اور لائف سٹائل پر اس طرح توجہ نہیں دے پاتے جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ویل مینٹینڈ خاتون کا معیارِ زندگی ہوتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب شادی کے بعد دونوں کا سامنا حقیقی زندگی کے مسائل سے ہوتا ہے، تو وہاں ایک فکری خلیج (Gap) نظر آتا ہے۔ اکثر بچیاں سوشل میڈیا، ریلز اور ڈراموں کی خیالی دنیا سے متاثر ہو کر ایک آئیڈیل ماحول کی توقع کر رہی ہوتی ہیں، لیکن جب ان کا سامنا شوہر کی معاشی مجبوریاں اور زندگی کی سخت حقیقتوں سے ہوتا ہے، تو وہ خواب دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کل رشتوں میں قوتِ برداشت اور درگزر کی کمی سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس کی وجہ سے معمولی نوعیت کے اختلافات بھی بہت جلدی خلع یا طلاق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
نکاح کنیکٹ کے پلیٹ فارم سے ہم ہمیشہ رشتوں کو جوڑنے اور نبھانے کی بات کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ رشتہ نبھانے سے ہماری مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی غلط انسان کے ساتھ زندگی کا سودا کر لیا جائے۔
*ان بنیادی باتوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں:* اگر لڑکا کسی سنگین نشے کی لت میں مبتلا ہے، اخلاقی طور پر بدتمیز یا تشدد پسند ہے، یا بالکل بھی کمانا نہیں چاہتا اور اپنی ذمہ داریاں نہیں اٹھاتا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا حل شادی کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی تلاش کر لینا چاہیے اور ان پر کوئی کمپرومائز نہیں بنتا۔
2 وی
*یہاں حقیقت پسندی اور تحمل کا مظاہرہ کریں:* لیکن اگر مسئلہ صرف انا (Ego) کا ہے، مالی حالات میں عارضی اتار چڑھاؤ ہے، یا سسرال کے ساتھ معمولی قسم کے اختلافات ہیں، تو جذبات میں آ کر فوری خلع کا راستہ اختیار نہ کریں۔ یاد رکھیں، طلاق یا خلع کے بعد کے جو سماجی اور ذہنی حالات ہوتے ہیں، وہ ایک خاتون کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں وہ والدین جن کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہیں، وہ اپنی بچیوں کے مستقبل کے لیے زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں کیونکہ ہر جگہ لائق اور باصلاحیت بچیوں کی پروفائلز کی کثرت ہے، جبکہ ان کے موازنے میں متوازن اور ذمہ دار لڑکوں کا گراف معاشی دباؤ کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔
ان تمام معاشی اور معاشرتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں رشتوں کو بچانے کے لیے 'حقیقت پسندی، صبر اور باہمی درگزر' کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ شادی صرف دو افراد کا نہیں، دو خاندانوں کا بندھن ہے۔ رشتہ جوڑنا جتنا آسان ہے، اسے مخلصانہ کوشش اور ایک دوسرے کے حالات کو سمجھے بغیر نبھانا اتنا ہی مشکل ہے۔ اللہ پاک ہم سب کے گھروں کو آباد رکھے اور ہماری بچیوں اور بچوں کے نصیب اچھے کرے۔ آمین۔
